خرم مراد کی تصنیف ”لمحات”

124

تحریر؛ اسداللہ غالب
پنجاب کی موجودہ نگران حکومت میں سب سے کم عمر وزیر ابراہیم مراد کے دادااور یو۔ ایم۔ ٹی کے بانی ڈاکٹر حسن صہیب مرادکے والد محترم خرم مراد ایک ممتاز دانش ور’ مصنف’ محقق اور اسلامی احیائی تحریک کے معروف رہنما تھے۔ 1953ء میں این ای ڈی انجینئر نگ کالج کراچی سے سول انجینئرنگ میں گریجوایشن کی اور پھر تقریباً دو برس تک یہیں پر لیکچر ررہے۔ 1958ء میں یونی ورسٹی آف مینی سوٹا، امریکا سے ماسٹرز کی ڈگری اعزاز سے پاس کی۔ بطور چیف انجینئر مشرقی پاکستان، ایران اور سعودی عرب میں پانی اور بجلی کے بڑے تعمیراتی اہداف کی تکمیل کیلئے خدمات انجام دیں۔ ان منصوبوں میں مکہ معظمہ میں حرم کعبہ کی توسیع اور تعمیر نو بھی شامل ہے۔ 1986 ء میں پاکستان منتقل ہو گئے اور جولائی 1991ء میں ماہ نامہ ترجمان القرآن کے مدیر مقرر ہوئے۔ 150 چھوٹی بڑی کتب کا فکری، تربیتی، تحریکی اور علمی اثاثہ چھوڑا۔ ان میں سے بعض تحریریں جرمن، فرانسیسی، ترکی، ہندی، بنگالی اور عربی وغیرہ میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ ان کی کتاب ”لمحات” ان کی آپ بیتی بھی ہے اور ایک عام انسان کی محنت و عزم کیساتھ ترقی بلندیوں پر پہنچنے کی کامیاب داستان بھی۔ ”لمحات” کے بارے میں ”اعتراف” کرتے ہوئے پروفیسر خورشید احمد لکھتے ہیں کہ ”خرم مراد کی تصنیف ‘لمحات ‘یادوں کا ایسا قیمتی مرقع ہے جس میں ایک طرف ایسے انسان کی بامقصد شخصی اور تحریکی زندگی کی اہم ترین جھلکیاں دیکھی جا سکتی ہیں جس نے عنفوان شباب ہی میں اپنے آپ کو ایک پاکیزہ نصب العین اور ایک تعمیری تحریک کیلئے وقف کر دیا تھا دوسری طرف خود اس دعوے اور تحریک کی داستان کا ایک ہیولا بھی ان سطور اور بین السطور سے اْبھر آتا ہے جس کے عشق میں یہ نوجوان سرگرداں رہا اور جس کی جستجو’ خدمت’ آبیاری اور تزئین کیلئے اس نے پوری زندگی نچھاور کر دی۔لمحات کا خاصا بڑا حصہ خرم مراد کی جمعیتی زندگی اور خود اسلامی جمعیت طلبا کے سب سے اہم اور تشکیلی دور کے شب و روز پر مشتمل ہے۔ لمحات میں تحریک اسلامی کے ایک اور وصف کی تصویر بھی دیکھی جا سکتی ہے یعنی تحریک میں مشورے تنقید اختلاف اور فیصلے کا عمل اور اس کی برکتیں۔ایک طرف آزادی اظہار رائے اور اختلاف کا برملا اظہار اور دوسری طرف فیصلوں کا احترام اور شخصیات کے باہمی تعلقات میں محبت اور اعتماد کی فراوانی۔ یہ اسلام اور تحریک اسلامی ہی کا ایک کرشمہ ہے جس کی جھلکیاں لمحات میں جگہ جگہ دیکھی جا سکتی ہیں۔ اگر خرم مراد کی زندگی ساتھ دیتی تو بھارت کی قید’کچھ عرصہ ایران میں’سعودی عرب میں حرم شریف کی توسیع کا منصوبہ’اسلامی فاؤنڈیشن لسٹر کے دس سال’لاہور کی امارت’مرکز میں نائب امارت اور ترجمان القرآن کی ادارت کی چھ سالہ جاں گسل جدوجہد کی یادوں میں بھی وہ ہم کو شریک کر لیتے”۔ خرم مراد تو آج ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن ان کی تصنیف ”لمحات” کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ سامنے بیٹھے اپنی داستان بیان کر رہے ہوںا ور ایک ایک لفظ ذہن نشین اور دل میں اترتا جا رہا ہو۔ 551صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت آپ بیتی منشورات نے شائع کی۔ پہلی اشاعت سن دو ہزار جبکہ تازہ ترین اشاعت اکتوبر دو ہزار بائیس میں ہوئی۔ کتاب کو بنیادی طور پر چودہ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر باب کو ذیلی عنوانات کے ساتھ مزید چھوٹے ابواب میں اس طرح لکھا گیا ہے کہ ہر موضوع ایک دوسرے سے مختلف اور جامع دکھائی دیتا ہے اور کتاب کا ربط اور تحریر کا تسلسل بھی برقرار رہتا ہے۔ پروفیسر خورشید احمد کے ”اعتراف” کے بعد مصنف کا ابتدائیہ ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کی یادداشتوں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک حصہ تو وہ ہے جس میں جماعت اسلامی پاکستان کی پالیسیوں اور عملی اقدامات کے بارے میں کام کیا گیا ہے۔ دوسرے حصے کو خرم مراد نے اپنی تحریکی زندگی کے واقعات اور نتائج پر مرکوز کیا ہے۔تیسرا حصہ ذاتی زندگی کے بارے میں ہے۔ خرم مراد نے یہ تمام یادداشتیں اپنی زندگی کے ابتدائی 48سال کے بعد حافظے کی مدد سے لکھیں۔پہلا باب بچپن اور زندگی کے دورِ تشکیل کے عنوان سے ہے جس میں ابتدائی نقش’جماعت سے تعلق کی ابتدا’والد صاحب’ گھر کے کتاب دوست ماحول’ مطالعے کے شوق پر نظر ڈالی گئی ہے۔ اسی طرح تحریک پاکستان میں دلچسپی’دینی تعلیم’جماعت سے تعلق’کالج میں داخلے اور بھارت میں نظمِ جماعت کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ دوسرا باب پاکستان آمد اور مسائل کے حوالے سے ہے۔ اس میں پاکستان آنے کے فیصلے سے لیکر پاکستان کے سفر اور جذبات’ لاہور کی فضا’ گھر کے مسائل اور تعلیم کے حوالے سے درپیش مسائل پر نظر ڈالی گئی ہے۔تیسرا باب جمعیت سے وابستگی اور سفرِشوق کے بارے میں ہے اور اسی وابستگی اور شوق نے بالآخر خرم مراد کو نئی پہچان دی۔ جمعیت میں ہونے والی سرگرمیاں’کراچی جمعیت کی نظامت’اپنے مکان کے حصول’مولانا مودودی کی جلسے میں شرکت’ اسٹوڈنس وائس کے اجرا’جمعیت کے دفترکا حصول اور اساتذہ اور ہماری اعانت جیسے دلچسپ پہلوؤں اور موضوعات کو یادداشتوں کا حصہ بنایا گیا ہے۔اس باب میں خرم مراد کے جمعیت سے نہ صرف گہری وابستگی کے سفر کی تفصیل بیان کی گئی ہے بلکہ بعض یادگار واقعات کو بھی تحریر کیا گیا ہے جیسا کہ ”رعایتی ٹکٹ’غلطی پر پشیمانی” جس میں خرم مراد نے بتایا کہ جب وہ کراچی جمعیت کے ناظم تھے تو اجتماع میں شرکت کیلئے لاہور جانا تھا لیکن مالی مسائل آڑے آ گئے۔جانا بھی ضرور تھا لہٰذا رعایتی ٹکٹ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا بعد میں جس کی انہیں خلش محسوس ہوئی اور انہوں نے اس احساسِ ندامت کا ذکر بڑے مفصل انداز میں کیا جو ایک بڑے اور کھرے آدمی کی نشانی ہے۔چوتھا باب نظامت اعلیٰ اور جمعیت سے فراغت کے عنوان سے ہے۔ اس میں نظامت اعلیٰ کی ذمہ داری سے لیکر جمعیت سے فراغت تک کے عنوان سے مختلف پہلوؤں اور یادوں کواس خوبصورتی سے یکجا کیا گیا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔پانچواں باب عملی زندگی میں قدم کے عنوان سے ہے اور یہ بھی انتہائی اہم باب ہے کیونکہ اس میں پہلی ملازمت سے لیکر جماعت سے تعلق اور سرگرمیوں کا خوب احاطہ کیا گیا ہے۔خرم مراد انجینئرنگ کالج میں لیکچرر بھی رہے ‘ پاک نیوی میں بھی انہوں نے درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔گھر میں معاشی حالت پتلی ہونے کے باعث ٹیوشن بھی پڑھاتے رہے۔اس باب میں شادی کا بھی تذکرہ ہے جس کے انکی ذاتی اور تحریکی زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔لکھتے ہیں ” اپنے بچوں کو دیکھ کر میں اللہ کا بار بار شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے میرے علم کی حد تک انہیں صالح بنایا اور دین کیلئے بھی سرگرم رکھا ہے”۔ چھٹا باب امریکہ میں تعلیمی سرگرمیوں اور مشاہدات کے عنوان سے ہے جس میں اعلیٰ تعلیم کی ضرورت سے لیکر مغرب سے جو کچھ سیکھا’ اس بارے میں سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ ساتواں باب امریکا سے واپسی کے عنوان سے ہے۔ آٹھواں باب ڈھاکہ جماعت میں براہ راست حصہ’ نواں باب جماعت پر پابندی’ گرفتاری اور قومی سیاست ‘دسواں باب انتخابات’ جنگ ‘ گیارہواں تعمیر و تخریب کا مشاہدہ’ بارہواں مارشل لا کا نفاذ’زوال کا راستہ’تیرہواں1970انتخابی امتحان اور پاکستان اور چودھواں او ر آخری باب المیوں کا سال کے عنوان سے ہے جس میں سانحہ مشرقی پاکستان اور دیگر کا ذکر ہے۔ خرم مراد کی یہ کتاب ہر طالب علم کو پڑھنی چاہیے۔ یہ اگر چہ بیان کردہ آپ بیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک عہد کی فکری اور علمی داستان ہے’ مصنف جس کے گواہ بھی ہیں اور حصہ بھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کتاب سیاسی اور اجتماعی تحر یکی زندگی میں ثقافتی اور فکری انقلاب پیدا کرنے کا بھر پور سامان اور واضح پیغام رکھتی ہے۔