تم میرا اعتبار مت کرنا

77

خواجہ آفتاب حسن

ہم اپنے کالموں میں اپنے ایک دوست کا گاہے بگاہے ذکر کرتے رہتے ہیں، ایک زمانے میں ہمارے اس دوست کو دیگر احباب ”کڑم شاہ “ کہا کرتے تھے اور ہمارا بھی یہ خیال تھا کہ کوئی کام بگاڑنا ہو تو موصوف کو ساتھ لے جائیں۔ ہمیں بڑی حیرت ہوتی جب پتا چلتا کہ جناب کسی جاننے والے کو ” انصاف“ دلانے پولیس سٹیشن گئے اور متعلقہ افسر کی ایسی تیسی پھیر آئے ۔ ایسا قصہ سننے کے بعد بھلا کون دریافت کرنے کی جرات کر سکتا ہے کہ ” آگے کیا ہوا“۔ کون نہیں جانتا ہمارے ہاں تھانوں میں عام آدمی کے ساتھ پولیس جو سلوک روا رکھتی ہے ،عدالتوں میں اس سے بھی برے حالات ہیں ۔ ہم سیاسی مقدمات کی بات نہیں کر رہے، کیوں کہ اب تو پاکستان کا بچہ بچہ جان چکا ہے کہ ہمارے ہاں عدالتوں کا ” پیمانہ انصاف “ کیا ہے ۔کھلے عام گرانفروشی ، سربازار تجاوزات کی بھرمار، سرکاری دفاتر میں براجمان افسر شاہی کی میزوں پر احکامات کی منتظر مٹی کے ڈھیر تلے دبی فائلیں، پرائیویٹ اداروں میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، غیر جانبدارانہ صحافت کی دھجیاں اڑاتے کنٹرولڈ ٹی وی چینلز، میڈیا انڈسٹری میں پرائیویٹ ایجوکیشن مافیا کے بعد ہاﺅسنگ سیکٹر سے وارد مالکان کی شکل میں لائے جانے والے نئے مہرے، الغرض کوئی شعبہ ایسا نہیں جہاں میرٹ ،اصول ،قانون ونصاف کی جس قدر دھجیاں اڑائی جا سکتی ہیں نہ اڑائی جا رہی ہوں اور مجال ہے کسی کو کوئی پچھتاوا یا افسوس ہو۔ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ منہگائی کی چکی میں پسنے والا عام آدمی ملک میں مارشل لاء کی دعائیں مانگ رہا ہے اور جو ادارہ ماضی میں اس سے کم برے حالات میں اقتدار پر براجمان ہونے کی اپنی خواہش کو ”عوامی خواہش “ کا نام دے کر سیاسی اقتدار کی بساط لپیٹ دیتا تھا وہ شاید عدلیہ اور سیاسی جماعتوں کی جاری جنگ کو انجوائے کر رہا ہے ۔ دور کی کوڑی لانے والوں کا خیال ہے کہ طاقتور ادارے کے ساتھ عمران خان کی پی ٹی آئی کے کارکنوں نے جو کیا اور کہا اس کے بعدان کی طرف سے ”توبہ ہی بھلی “۔
بات کہیں اور نکل گئی ، ذکر ہو رہا تھا ہمارے دوست کا جن کے بہ قول انہیں شاعری کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں ، اس کے باوجود ان دنوں شاعری ان پر ایسے اتر رہی ہے جیسے۔۔۔ ،اس سے پہلے کہ وہ بتاتے ” کیسے “ ہم بے خیالی میں زیر لب بڑبڑائے جیسے کوئی عذاب، وہ تو خدا کا شکر ہے کہ انہیں لگا ”ثواب“۔ موصوف شاعری بھی فرماتے ہیں اور وہ بھی پنجابی زبان میں، حالاں کہ بولنے میں بھی ان کی پنجابی ٹھیک نہیں، لکھنے میں کیسی ہو گی ، اس کا اندازہ بہ خوبی لگایا جا سکتا ہے ۔ماں بولی کے ساتھ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے کہ ہمارے دوست اس میں بے خوف و خطر شاعری فرما رہے ہیں اور ہم اپنے بچوں کو دھرتی کی زبان سے ارادتاً دور رکھتے ہیں ، اس سے بڑا ظلم ہمارے دوست جیسے شعراء ڈھاتے ہیں کہ شاعری کے شوق میں زبان کا خیال بھی نہیں رکھتے ، لفظوں کو جوڑ کر شعر گھڑ لینے کا فارمولا اگرچہ بہت پرانا ہے تاہم اپنے دوست کی شاعری سن کر لگتا ہے کہ یہ طریقہ اب بھی رائج ہے ۔ہمارے یہ دوست دو فیچر فلموں کے ڈائریکٹر بھی رہے ہیں اور گئے روز ہم پر یہ انکشاف ہوا کہ موصوف عید کے بعد اپنی نئی فلم کو سیٹ پر لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ پلاننگ پر چوں کہ وہ یقین نہیں رکھتے اس لیے اپنی سابقہ دو فلموں کی طرح پر امید ہیں کہ تیسری فلم بھی کسی نہ کسی طرح بن ہی جائے گی ۔یہ فلم چلے گی کہاں؟ ۔ ہمارے اس سوال پروہ چند لمحوں کے لیے متفکر نظر آئے لیکن یہ بھی ہمارا خام خیال تھا، کیوں کہ ان کا ارادہ فلم بنانے کا ہے ،فلم کو لگانا اور چلانا الگ شعبے ہیں اور ان کے خیال میں دوسر ے کے کام میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے ، وہ جانے اس کا کام۔ایسے ”پراعتماد“ انسان کے لیے بندہ صرف دعا ہی کر سکتا ہے۔ اور موصوف دعا پر اس قدر یقین رکھتے ہیں کہ عمل کے بجائے محض دعا کے سہارے زندگی کا بڑا حصہ گزار چکے ہیں ۔
جب سے ہمیں اپنے دوست کی نئی فلم کے بارے میں پتا چلا ہے ،ہمیں کس پل چین نہیں آرہا ،اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سلور سکرین پر ” جلوہ گر “ ہونے کا سنہری موقع ہمارے ہاتھ لگنے والا ہے، یہ الگ بات ہے کہ بہت سے جاننے والے ہماری LOOK کو ہالی ووڈ ہیروز سے مشابہہ قرار دے چکے ہیں تاہم ہم ایسی کسی خوش فہمی کا شکار نہیں لیکن ہمارے دوست کا تو فرض ہے کہ وہ ہمارے بارے میں لوگوں کی رائے کو بہت زیادہ نہ سہی تھوڑی سی اہمیت تو دیں ، اپنی فلم میں مرکزی نہ سہی کوئی سائیڈ رول ہی سہی۔۔ ۔ہمیں تو رہ رہ کر 11نومبر 1977ء کو ریلیز ہونے والی بھارتی فلم ”چلا مراری ہیرو بننے “بھی یاد آرہی ہے جس میں کامیڈین اسرانی نے مرکزی کردار نبھایا اور اداکارہ بندیا گوسوامی فلم کی ہیروئن تھیں۔ مذکورہ فلم میں اسرانی ہیرو بننے کے خواہش مند نوجوان میں نظر آتے ہیں اور ہمیں نہ جانے کیوں اپنے دوست ڈائریکٹر بننے کے چکر میں مبتلا لگتے ہیں۔دلچسپ بات یہ کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی اس ” خواہش “ پر سرمایہ کاری بھی کوئی اور کرے۔ ان سے اچھے تو اپنے چیف جسٹس پاکستان ہیں جو الیکشن کے لیے اپنی تنخواہ میں پانچ فیصد کٹوتی کے لیے بھی تیار ہیں۔یہ ہوئی نا مزے کی بات کہ اگر آپ انصاف کے بجائے کسی کو فیور دینے کے چکر میں ہیں تو خود بھی اس میں ” حصہ “ ڈالیں۔ ہمارے دوست کی فلم کیسی ہو گی اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ پاکستان میں عدلیہ بمقابلہ حکومت جو فلم چل رہی ہے ، وہ دلچسپی سے خالی نہیں اور انٹرٹینمینٹ سے بھرپور ہے ،ہم تو اپنے دوست کو یہی مشورہ دیں گے کہ پہلے ہر ٹی وی چینل پر چلنے والی اس”فلم “ کا انجام دیکھ لیں،ملک بچ گیا تو پھر اپنی فلم بھی بنا لیں گے۔اس موقع پر ہمیں نہ جانے کیوں یہ شعر یاد آرہا ہے ،بہ قول شاعر
میں اگر کہہ بھی دوں ،چلے جاﺅ
تم میرااعتبار مت کرنا!!